کراچی میں ہلکی نوعیت کے پانچ دھماکے ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے ضلع غربی میں ہوئے ہیں۔
پولیس نے ان دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے جن کو کریکر دھماکے کہا جا سکتا ہے۔
آئی جی سندھ صلاح الدین بابر کے مطابق یہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے جن سے تقریباً پچیس افراد زخِمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں میں یکسانیت یہ تھی کہ یہ تمام دھماکے کراچی کے ضلع غربی میں ہوئے اورایسا لگتا ہے کہ خوف و ہراس پھیلانا مقصد تھا۔
ڈی آئی جی ضلع غربی کراچی علیم جعفری بتایا کہ دھماکوں کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ان واقعات میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔
ہسپتال سے ہمارے نامہ نگار نے پتایا کہ عباسی شہید ہسپتال سینتیس زخمی لائے گئے ہیں۔ ہسپتال کے باہر ایک بڑی تعداد میں لال ٹوپیاں پہنے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان موجود ہیں۔ انہوں نے ہسپتال کے دروازوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور میڈیا سمیت کسی کو اندر نہیں جانے دے رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو ایمرجنسی کے سامنے سے ہٹنے کا بھی کہہ رہے ہیں تاکہ زخمیوں کی آمد میں کوئی خلل نہ پڑے۔
پولیس نے ان دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے جن کو کریکر دھماکے کہا جا سکتا ہے۔
آئی جی سندھ صلاح الدین بابر کے مطابق یہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے جن سے تقریباً پچیس افراد زخِمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں میں یکسانیت یہ تھی کہ یہ تمام دھماکے کراچی کے ضلع غربی میں ہوئے اورایسا لگتا ہے کہ خوف و ہراس پھیلانا مقصد تھا۔
ڈی آئی جی ضلع غربی کراچی علیم جعفری بتایا کہ دھماکوں کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ان واقعات میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔
ہسپتال سے ہمارے نامہ نگار نے پتایا کہ عباسی شہید ہسپتال سینتیس زخمی لائے گئے ہیں۔ ہسپتال کے باہر ایک بڑی تعداد میں لال ٹوپیاں پہنے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان موجود ہیں۔ انہوں نے ہسپتال کے دروازوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور میڈیا سمیت کسی کو اندر نہیں جانے دے رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو ایمرجنسی کے سامنے سے ہٹنے کا بھی کہہ رہے ہیں تاکہ زخمیوں کی آمد میں کوئی خلل نہ پڑے۔

