پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں کے خلاف آئینی درخواستوں کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں خارج کردیا ہے۔ نو رکنی بینچ کے چھ ججز نے آئینی درخواستیں خارج کرنے کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ تین ججوں رانا بھگوان داس، سردار رضا خان اور شاکراللہ جان نے اختلافی رائے دی۔ نو رکنی بینچ میں شامل چھ ججوں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس فلک شیر، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس ایم جاوید بٹر نے آئینی درخواستیں خارج کرنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ان کی جماعت اس فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کے حالیہ سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس سے پہلے بینچ نے صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم اور جنرل مشرف کے وردی میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف آئینی د...
Awaz Apni Baat Apni is started in new Vision of Pakistan, We want to see a real image of Pakistan in public Point of View, Our Pakistan with New Vision.

