پاکستان کے صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کا مقصد جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہے اور خبردار کیا کہ جمہوریت کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے والوں کی وہ آنکھیں نکال لیں گے۔
صدر آصف علی زرداری سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی دوسری برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش بھٹو میں ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو، بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو بھی سٹیج پر اپنے والد کے ہمراہ موجود تھے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ ، ’یہ ہمارے ساتھ مذاق کرنا چاہتے ہیں۔ مگر انہیں پتہ نہیں کہ اب مذاق کی گنجائش نہیں رہی۔ کیونکہ ہمارے ادارے ہیں کسی ٹینوئر پوسٹ کے ادارے نہیں۔ ہم نے ادارے بنائے ہیں۔ ہمارے لہو سے بنے ہیں یہ ادارے اور ان کی رکھوالی ہم تم سے بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ اداروں کے تصادم سے کیا ہوتا ہے اس لیے ہم اداروں کے تصادم میں پڑنا نہیں چاہتے ہیں۔‘
صدر آصف علی زرداری نے اپنے جذباتی خطاب میں ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ کو بار بار مخاطب کیا اور بتایا کہ ان کی حکومت کے کون کون سے عمل ان عناصر کی نظروں میں ان کی نظر میں جرم ہیں۔
آصف علی زرداری نے بتایا ہے کہ، ’میرا قصور یہ تھا کہ شہید محترمہ بینظر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے میں نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا اور ان کا اصرار تھا کہ میں نے پنڈی بھٹیاں کے ایس ایچ او سے تفتیش کیوں نہیں کروائی۔‘
صدر آصف علی زرداری نے بتایا کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ان کا ایک قصور یہ بھی ہے کہ انہوں نے جوہری اثاثوں کی کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار وزیراعظم کے سپرد کیا اور ان عناصر کا اصرار تھا کہ یہ اختیار مشترکہ ہو۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ، یہ کوئی نہ سمجھے کہ اگر ہم برداشت کرتے ہیں تو کمزور ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم کو لڑنا نہیں آتا مگر ہم کو پتہ ہے کہ اداروں کی جنگ میں نقصان ملک کا ہوتا ہے۔‘ انہوں نے افغانستان، عراق اور صومالیا کی مثالیں دیکر بتایا کہ وہ پاکستان کو اس نہج پر نہیں پہنچانا چاہتے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بعض قوتیں پاکستان کو توڑنا چاہتی ہیں اور ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے بینظر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی نعرہ لگایا کہ پاکستان کھپے۔
صدر زرداری نے نوڈیروں ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کیا جو سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی۔ اس تقریب میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور آصف علی زرداری کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری، بیٹیاں بختاور اور آصفہ بھی سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جب تمام صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بینظیر قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کی منظوری دے دی تو آج ان کو اعتراض کیوں ہے۔
انہوں نے ان عناصر سے مخاطب ہوکر کہا کہ یہ کیا راز ہے، کیا بات ہے نقصان تو میرا ہوا ہے میرے بچوں کی ماں کا ہوا ہے تمارے پیٹ میں کیا تکلیف ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے اوپر کوئی اور بات ہے کوئی اور راز ہے۔‘
انہوں نے کہا ’یہ لوگ انہیں دہمکیاں دے رہے ہیں کہ زرادری کو ایمبولینس میں جانا پڑےگا، دسمبر میں جانا پڑےگا اور تاریخیں دیتے ہیں میں کہتا ہو کہ مجھے ایمبولینس تو قبول ہے مگر ان کے پاس کون سے ذرائع ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ اور وہ ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اور یہ سازش پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے اور وہ یہ سازش ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ پیپلزپارٹی کا جھنڈہ اب ان کے ہاتھ میں ہے۔‘
آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کے خلاف ان کے جرموں کی بڑی فہرست ترتیب دے دی گئی ہے اور اس کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے عالمی اداروں سے لیکر پاکستان کے ہر فورم پر کہا کہ پختونوں کونام دو اور پختونستان کے لوگوں کو شناخت دو۔ انہوں نے بلوچستان میں حقوق بلوچستان کا آغاز کیا ہے مگر کہتے ہیں کہ یہ آصف زرداری کے جرم ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر جمہوری اداروں کی مضبوطی اور پاکستان کی بقا ان کے جرم ہیں تو وہ ایسے جرموں کے عادی ہیں اور ایسے جرم وہ کرتے رہیں گے چاہے اسے جیل میں رہنا پڑے یا ایوان صدر میں ان جرموں کی پاداش میں بھلے ان کو پھانسی دے دی جائے۔
آصف زرادری نے کہا کہ ، ’ان عناصر اور ہماری سوچ میں فرق ہے۔ وہ ہمیں شہید کرتے جائیں اور ہم جمہوریت کی بقاء کی بات کرتے جائیں گے۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرو اس دن سے جب ہم سب شہید ہوجائیں گے اور پاکستان بچانے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘

